بنگلورو،یکم فروری(ایس اونیوز) نجی شعبے میں کنڑیگاؤں کو روزگار میں ریزرویشن کیلئے قانونی طریقۂ کار اپنانے کے ساتھ آئی ٹی بی ٹی اور دیگر تمام نجی کمپنیوں میں کنڑیگاؤں کو روزگار فراہم کرنے کی بنیادی شرط رکھنے کی سفارشات سمیت 14 دیگر سفارشات پر مشتمل ڈاکٹر سروجنی مہیشی نظر ثانی شدہ رپورٹ آج حکومت کو پیش کی گئی ۔ ڈاکٹر سروجنی مہیشی کی سفارشات کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھال کر کنڑیگاؤں کو ترقی میں برابر کی حصہ داری ملنے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اس کمیٹی نے سفارشات پیش کیں ۔ کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیرمین پروفیسر ایس جی سدرامیا اور ممبران نے آج صبح وزیراعلیٰ سدرامیا کو ان کی ہوم آفس کرشنا میں نظر ثانی شدہ رپورٹ کا مسودہ پیش کیا۔رپورٹ کی اہم سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے نجی شعبہ میں آنے والی تمام آئی ٹی بی ٹی کمپنیوں ، بین الاقوامی کمپنیوں ، نئی صنعتوں ، نجی تعلیمی اداروں ، نجی یونیورسٹیوں ، اسپتالوں ، تفریحی مراکز ، ہوٹلس ، شاپنگ مالس اور تجارتی مراکز میں ڈی گروپ کی تمام ملازمتیں کنڑیگاؤں کو مختص کی جائیں۔ اس سلسلے میں ان عمارتوں کی تعمیر کیلئے پیشگی شرط رکھی جائے کہ یہاں صد فیصد روزگار کنڑیگاؤں کو ملے گا۔یہاں کے اعلیٰ عہدے80 فیصد کنڑیگاؤں کو دئے جائیں۔ ان سفارشات سے اتفاق نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے اور اس کا اختیار کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہو۔ کمیٹی نے رپورٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو الگ الگ سفارشات پیش کی ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ہمراہ وزیر قانونی ٹی بی جئے چندرا ، رکن کونسل ایچ ایم ریونا ، وی ایس اگرپا ، معروف ادیب چندر شیکھر پاٹل، مکھیہ منتری چندرو، فلم اکاڈمی چیرمین راجیندر سنگھ بابو اور دیگر موجود تھے۔اس موقع پر رپورٹ حاصل کرنے کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ سروجنی مہیشی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کنڑیگاؤں کو نجی شعبوں میں زیادہ روزگار یقینی بنانے کی حکومت پابند ہے۔ وفد سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں کو وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں انہیں قانونی شکل دینے کیلئے ایک مسودۂ قانون مرتب کرنے کئی حلقوں سے مطالبات آئے ہیں ، حکومت اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے اور ایک مثبت قانون وضع کرنے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے آج پیش کی گئی رپورٹ میں 14 مطالبات پیش کئے ہیں۔ اس موقع پر مکھیہ منتری چندرو نے اس بات پر زور دیا کہ رپورٹ کے اہم نکات کو قانونی شکل دے کر انہیں نافذ کیا جائے او ر تعلیمی اداروں میں کنڑا کے لزوم کا اعلان قبل از وقت ہوجانا چاہئے۔